پاکستان بھر میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی سائنس لیبارٹریز میں گیس سپلائی کا نظام ایک اہم مسئلہ ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے بہت سے تعلیمی اداروں میں پرانے اور غیر محفوظ گیس سسٹم استعمال ہو رہے ہیں جو طلباء اور عملے کی حفاظت کے لیے خطرہ ہیں۔

تعلیمی لیبارٹریز میں گیس کی ضروریات
یونیورسٹی کیمسٹری لیبارٹری میں عام طور پر نائٹروجن، ہائیڈروجن، ہیلیم اور کمپریسڈ ایئر کی ضرورت ہوتی ہے۔ بائیولوجی لیبارٹری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن استعمال ہوتی ہے۔ ہر گیس کے لیے الگ پائپ لائن، ریگولیٹر اور سیفٹی والو ضروری ہے۔
PSQCA نے تعلیمی اداروں کی لیبارٹریز کے لیے بھی حفاظتی معیارات مقرر کیے ہیں۔ گیس سلنڈر الگ کمرے میں رکھے جائیں، پائپ لائنز لیک پروف ہوں، اور ہر گیس آؤٹ لیٹ پر شٹ آف والو لگا ہو — یہ بنیادی تقاضے ہیں۔
مرکزی گیس سپلائی سسٹم کے فوائد
بہت سے پاکستانی تعلیمی اداروں میں ابھی تک ہر لیبارٹری میں الگ سلنڈر رکھے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ مہنگا بھی ہے۔ HJSLab کا مرکزی لیبارٹری گیس پائپنگ سسٹم ایک ہی جگہ سے پوری عمارت کی تمام لیبارٹریز کو گیس فراہم کرتا ہے۔
سلنڈر روم عمارت کے باہر ایک ہوادار جگہ پر بنایا جاتا ہے۔ وہاں سے سٹینلیس سٹیل یا کاپر پائپ کے ذریعے گیس ہر لیبارٹری تک پہنچتی ہے۔ ہر لیبارٹری میں پوائنٹ آف یوز پینل لگایا جاتا ہے جس میں پریشر گیج، ریگولیٹر اور ایمرجنسی شٹ آف والو ہوتا ہے۔
HJSLab نے پاکستان میں متعدد یونیورسٹیوں کے لیے یہ سسٹم نصب کیا ہے۔ نتیجہ: گیس کا ضیاع کم ہوا، حفاظتی واقعات میں نمایاں کمی آئی، اور طلباء کو مسلسل اور قابل اعتماد گیس سپلائی ملنے لگی۔

طلباء کی حفاظت سب سے اہم
تعلیمی لیبارٹری میں طلباء تجربہ کار نہیں ہوتے۔ گیس لیک ہونے پر انہیں فوری طور پر پتا نہیں چلتا۔ اس لیے HJSLab کا ہر سسٹم گیس ڈٹیکشن سینسرز کے ساتھ آتا ہے جو لیک ہونے پر خودکار الارم بجاتے ہیں اور گیس سپلائی بند کر دیتے ہیں۔
رنگ کوڈنگ بھی ضروری ہے — ہر گیس کی پائپ لائن مختلف رنگ میں ہونی چاہیے تاکہ غلط گیس کا استعمال روکا جا سکے۔ HJSLab بین الاقوامی رنگ کوڈنگ معیارات کے مطابق پائپ لائنز نصب کرتا ہے اور ہر آؤٹ لیٹ پر واضح لیبل لگاتا ہے۔

