لاہور کو ہمیشہ سے پاکستان کا تعلیمی اور ثقافتی دل سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ملک کی چند بہترین یونیورسٹیاں اور ریسرچ سینٹرز ہیں۔ ان اداروں نے جیسے ہی اپنے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے پروگرامز کو وسعت دی، جدید انفراسٹرکچر کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی۔ اگر کسی بھی جدید لیب کی بات کریں تو اس کا اصل مرکز لیبارٹری بینچ ہی ہوتا ہے۔ لاہور کی یونیورسٹیاں جب پائیداری اور حفاظت چاہتی ہیں تو ایک آل اسٹیل لیبارٹری بینچ اس معیار پر پورا اترتا ہے۔

یونیورسٹی لیبز میں روزانہ سینکڑوں طلباء آتے جاتے رہتے ہیں اور مسلسل تجربات کرتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو لکڑی کی عام میز اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ لیکن جب بات ہو اسٹیل لیب بینچ کی تو اس میں بھاری گیج والا گیلوانائزڈ اسٹیل استعمال ہوتا ہے۔ یہ ڈیزائن ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ بھاری آلات اور دھچکوں کو برداشت کرے۔ اس کا مضبوط ڈھانچہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ مائکروسکوپ یا سینٹری فیوج جیسے حساس آلات بالکل محفوظ اور متوازن رہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ آل اسٹیل لیبارٹری بینچ میں حفاظتی فیچرز بھی ہوتے ہیں جو تعلیمی ماحول کے لیے لازمی ہیں۔ لیب میں اکثر کیمیکلز اور حرارت والے آلات استعمال ہوتے ہیں، جہاں حادثات ہو سکتے ہیں۔ معیاری اسٹیل بینچ کی سطح پر کیمیکل ریزسٹنٹ ایپوکسی ریزن کوٹنگ ہوتی ہے، جو تیزاب یا سالوینٹ گرنے سے اسے خراب ہونے نہیں دیتی۔ اس کے علاوہ، اسٹیل بینچ آگ کے خلاف بھی مزاحمت رکھتا ہے، جس سے لیب میں آگ پھیلنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور طلباء بھی زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔

صفائی اور دیکھ بھال کا مسئلہ بھی کسی تعلیمی ادارے کے لیے چھوٹا نہیں۔ اسٹیل لیبارٹری بینچ نہ صرف غیر مسام دار ہوتا ہے بلکہ اسے صاف کرنا بھی بہت آسان ہے۔ یوں حیاتیاتی یا کیمیائی آلودگی فوراً صاف کی جا سکتی ہے۔ جب ساری یونیورسٹی میں ایک ہی معیار کے لیب بینچ ہوں تو نہ صرف حفاظت بہتر ہوتی ہے بلکہ ادارے کا پروفیشنل امیج بھی نکھرتا ہے، جو ٹیلنٹڈ محققین کو بھی اپنی طرف کھینچتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے ادارے جب اپنی لیبز کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو huajusheng کا نام سامنے آتا ہے۔ یہ کمپنی اپنی انجینئرنگ مہارت اور شاندار معیار کے آل اسٹیل لیبارٹری بینچز کے لیے معروف ہے، جو یونیورسٹی کے مشکل ترین ماحول میں بھی اپنا معیار برقرار رکھتے ہیں۔ huajusheng کا بینچ چن کر، لاہور کے تعلیمی ادارے نہ صرف اپنے طلباء کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں بلکہ پاکستان میں سائنس اور تحقیق کے روشن مستقبل میں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

