پاکستان کے اسکول، کالج اور تحقیقی ادارے جب سائنسی تعلیم یا ریسرچ کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے ذہن میں معیاری لیبارٹری ورک بینچز آتے ہیں۔ ایک مضبوط اور پائیدار ورکنگ سطح کے بغیر، نہ تجربات محفوظ ہوتے ہیں اور نہ نتائج قابلِ اعتبار۔ جدید لیب بینچز اسی لیے اس طرح ڈیزائن کیے جاتے ہیں کہ وہ نہ صرف تعلیمی تقاضے پورے کریں بلکہ کیمیکلز، حرارت اور بھاری بوجھ کو بھی آسانی سے جھیل لیں۔

اسکول لیبز کی بات کریں تو وہاں زیادہ تر اسٹیل فریم والے بینچز، کمپیکٹ شیٹ یا ایپوکسی ریزن کے ٹاپ نظر آتے ہیں۔ یہ مٹیریل تیزاب، الکلائن اور سالوینٹس کے خلاف اچھی مزاحمت رکھتے ہیں، اس لیے کیمسٹری اور بایولوجی کے تجربات میں یہی سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، ریسرچ اداروں کو اور بھی زیادہ مضبوط اور موٹے فریم والے بینچز چاہیے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں بھاری مشینری اور حساس آلات کام آتے ہیں۔
ایک اچھی لیب بینچ میں پانی، گیس، بجلی اور ڈرینج کے انتظامات پکے اور محفوظ انداز میں ہونے چاہئیں۔ خاص طور پر تعلیمی ماحول میں سیفٹی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ گول کنارے ہوں، اینٹی اسلیپ سطح، محفوظ گیس والوز اور بجلی کے ساکٹس ہوں، تو نئے یا کم تجربہ کار طلبہ بھی بلاخوف تجربات کر لیتے ہیں۔

ریسرچ لیبز میں کچھ خاص باتیں اور بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔ کم کمپن والا ڈیزائن، ہیوی ڈیوٹی فریم اور کیمیکل ریزسٹنٹ کیبنٹس کے بغیر وہاں کام ٹھیک نہیں چلتا۔ بایولوجی، فارماسیوٹیکل یا کیمیکل ریسرچ میں صفائی اور مناسب وینٹیلیشن بھی لازمی ہے۔
آخر میں، پاکستانی تعلیمی اداروں کے لیے اعلیٰ معیار کے لیبارٹری ورک بینچز میں سرمایہ کاری ایک سیدھا سادہ فائدہ ہے۔ اس سے نہ صرف لیب کی حفاظت بڑھتی ہے، بلکہ جدید تعلیم اور سائنسی ریسرچ کے معیار میں بھی زبردست بہتری آتی ہے۔

